logoختم نبوت

بعض احادیث مبارکہ کی تشریح

(1)پہلی حدیث:

اب میں ناظرین کی خدمت میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔ جن میں آقائے نامدار احمد مختار علیہ الصلوٰۃ والسلامفرمارہے ہیں کہ نبوت مجھ پر ختم ہو چکی۔ اب میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔

مسلم شریف کتاب الفضائل میں ہے۔ جبیر بن مطعم بنی امیہ sym-5 راوی کہ حضور sym-9 نے فرمایا:

إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ أَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَانَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحَشَرَ النَّاسُ عَلَى قَدْ مِنْ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبی1
فرمایا: میرے لئے متعدد نام ہیں۔ میں محمد ہوں ۔ میں احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں کہ اللہ مجھ سے کفر مٹاتا ہے۔ میں حاشر ہوں کہ بروز قیامت لوگوں کا حشر میرے قدموں پر ہوگا۔ اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے۔ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔انتھی

حضور ﷺنے خود عا تحب کی تفسیر فرمادی کہ عاقب وہ ہے۔ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ علامہ نوویsym-4 اسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

اما العَاقِبُ فَفَسَّرَهُ فِي الحَدِيثِ بِأَنَّهُ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ ايَ جَاءَ عَقْبَهُمْ ترجمہ: یعنی عاقب کی حضور sym-9 نے حدیث میں خود تفسیر فرمادی کہ عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ یعنی حضور sym-9 سب سے پیچھے تشریف لائے ۔

شیخ سلیمان جمل شافعی sym-4 محشی جلالین عاقب کا معنی کرتے ہیں ( العاقب) وَمَعْنَاهُ الآتِي بَعْدَ الأنبياء فَلَا نَبِي بَعدَهُ2 یعنی عاقب وہ ہے۔ جو سب نبیوں کے بعد آوے۔ پس حضور sym-9 کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اس لئے کہ عاقب بمعنی آخر ہے۔

یہ حدیث مشکوۃ شریف میں بھی ہے۔ اس کی شرح لمعات میں لکھا ہے کہ عاقب آخر الانبیاء کے معنی میں ہے۔ منتھی الارب والے بھی عاقب کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَمِنْهُ قَولُ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا الْعَاقِبُ يَعْنِي آخِرُ الْأَنبِيَاء

اسی سے ہے حضور sym-9 کا ارشاد کہ میں عاقب ہوں ۔ یعنی سب نبیوں سے پچھلا ہوں۔شیخ عبد الحق محدث دہلوی sym-4 مدارج النبوت ج1ص 147پر فرماتے ہیں:

عاقب پس آئندہ یعنی خاتم الانبیاءاشعتہ اللمعات میں بھی اس کا معنی یہی لکھا ہے۔ دیکھئے (ص :57،ج:4)

(2) دوسری حدیث:

مسلم شریف کتاب الفضائل میں ہے۔ ابومو سی اشعری sym-5 روایت کرتے ہیں کہ حضور sym-9 نے فرمایا۔

أَنَا مُحَمَّدٌ وَاحْمَدُ وَالْمُقَفِّى وَالحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ فرمایا: میں محمد ہوں ۔ احمد ہوں ۔ آخری نبی ہوں حاشر ہوں ۔ تو بہ کا نبی اور رحمت کا بنی ہوں ۔ 3

علامہ نووی sym-4 اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

أَمَّا المَقَفِي فَقَالَ شَرٌ هُوَ بِمَعْنِي الْعَاقِب یعنی معنی عاقب کے معنی ہیں۔ شیخ عبدالرؤف مناوی sym-4 شرح کبیر میں مقفی کا معنی لکھتے ہیں:

( المقفى ) بِشِدَّةِ الْفَاءِ وَكَسْرِهَا لَأَنَّهُ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ عَقْبَ الأَنْبِيَاءِ وَفِي قَفَاهم ( نقله النبہانی [symbol فی جواہر البحار] ج 1ص:52) فرمایا کہ حضور sym-9 مقفی ہیں۔ اس لئے کہ آپ سب نبیوں کے بعد اور پیچھے تشریف لائے ۔ علامہ ملا علی قاری sym-4 بھی مفتی کا معنی آخر الانبیاء لکھتے ہیں ( دیکھو مرقاۃ ص :376، ج:5)

اشعۃ اللمعات ص 504 ، جلد4 پر بھی مقفی کا معنی آخر انبیا ء خاتم ایشاں لکھا ہے۔

علامہ قسطلانی بھی مقفی کا معنی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :وَكَانَ خَاتِمَهُمْ وَاخِرَهُمْ4یعنی حضور sym-9 نبیوں کو ختم کرنے والے اور آخر انبیاء ہیں۔

(3) تیسری حدیث:

مسلم شریف اور مشکوۃ میں حضرت ابو ہریرہ sym-5 راوی ۔ حضور sym-9 نے فرمایا :

فُصِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بست أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمِ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَةً وَخُتِمَ فِي النَّبِيُّونَ5
فرمایا مجھے نبیوں پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے۔ میں کلمات جامعہ دیا گیا ہوں ۔ رعب کے ساتھ منصور ہوں۔ مال غنیمت میرے لئے حلال کیا گیا۔ تمام روئے زمین میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی کر دی گئی۔ اور میں تمام جہان کے لئے رسول بنایا گیا اور میرے وجود با وجود سے نبیوں کو ختم کر دیا گیا۔

حضرت ملاعلی قاری sym-4 مرقاۃ میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ای وجود ہم فلا يحدث بعدی نبی یعنی سب لکھتے ہیں:ای وجود ہم فلا يحدث بعدی نبی یعنی سب نبیوں کے وجود کو ختم کر دیا گیا۔ اب بعد میں کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔

(4) چوتھی حدیث:

ترندی و بخاری اور مسلم نیز مشکوۃ شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔

مَثَلِي وَمَثَلُ الانبياء كَمَثَل قَصْرٍ مُحْسِنَ بُنْيَانَهُ تُركَ مِنْهُ مَوْضِع لبنة فَطَافَ بِهِ النَّظَارُ يَتَعَجَّبُونَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ إِلَّا مَوضِعَ تِلْكَ اللَّبْنَةِ فَكُنتُ أنَا سَدَدْتُ مَوْضع اللبنةِ خُتِمَ بي البيان وَخُتِمَ فِي الرِّسل وَفِي رِوَايَةٍ فَأَنَا اللَّبْنَةُ وَانَا خَاتِمُ النبيين6
یعنی میری مثال اور نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے۔ جس کی تعمیر بہت اچھی کی گئی ہو۔ اور ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ دیکھنے والے اس کے ارد گرد پھرتے ہیں اور خوبی تعمیر سے متعجب ہوتے ہیں۔ مگر اس ایک اینٹ کی خالی جگہ سے۔ پس میں نے آکر وہ خالی جگہ بند کر دی۔ یہ کل مجھ سے پورا کیا گیا اور رسولوں کو مجھ سے ختم کیا گیا۔ میں عمارت نبوت کی وہ پچھلی اینٹ ہوں اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں ۔

(5) پانچویں حدیث:

بخاری شریف اور مسلم شریف میں ابو ہریرہ sym-5 سے حدیث شفاعت میں مروی ہے کہ عیسی sym-9 لوگوں کو کہیں گے کہ آج محمد ﷺکی طرف جاؤ۔ حضو رsym-9 فرماتے ہیں۔ پھر لوگ میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے یا مُحَمَّد أَنْتَ رَسُولِ اللَّهِ وَخَاتِمُ الانبیاء7(اے محمد ﷺآپ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں )

(6) چھٹی حدیث:

بخاری شریف اور مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے مروی ہے کہ حضور sym-9 نے فرمایا :

كَانَتْ بَنُوا إِسْرَائِيلَ تَمُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءِ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي 8
فرمایا بنی اسرائیل کے انبیاء کے انبیاء سیاست فرماتے تھے۔ جب ایک نبی تشریف لے جاتے تو دوسرا ان کے بعد آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

(7) ساتویں حدیث:

مشکوۃ شریف میں حضرت جابر سے مروی ہے۔ حضور sym-9 نے فرمایا:

أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخَرَ وَأَنَا خَاتِمُ النبيين وَلَا فَخَرَوَانَا أَوَّلُ شَافِعِ وَمُشَفَع وَلَا فَخَرَ9
میں پیشوا ہوں رسولوں کا اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں۔ اور پہلا شفاعت مانا گیا۔ اور اس میں کوئی فخر نہیں انتھی اسے دارمی نے بھی روایت کیا ہے۔

(8) آٹھویں حدیث:

عرباض ابن ساریہ sym-5 حضور ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا:

إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ خَاتِمُ النبيين وَأَنَّ آدَمَ لَمُنْجِيلْ فِي طِينَتِهِ ترجمہ: بیشک میں اللہ کے ہاں اسوقت بھی نبیوں کا ختم کرنے والا لکھا ہوا تھا۔ جس وقت کہ آدم ابھی اپنی مٹی ہی میں تھے۔ 10

(9) نویں حدیث:

ابی امامہ باہلی sym-5 حضور sym-9 سے راوی کہ آپ نے فرمایا :

وَأَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْامَم
اور میں سب نبیوں کا پچھلا نبی اور تم سب امتوں سے پچھلی امت ہو۔

اسے ابن ماجہ نے اپنے سخن میں باب فتنہ الد جال میں ص :307 پر روایت کیا۔

(10) دسویں حدیث:

عَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِي وَقَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِي أَنْتَ مِنِّي بِنْزَلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي 11
سعد ابن ابی وقاص sym-5 فرماتے ہیں: کہ حضور sym-9 نے فرمایا (حضرت علی کو تجھے مجھ سے ایسی نسبت ہے جیسے ہارون کو موسی سے ۔ ( sym-10 ) مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

اس حدیث میں ذرا سے تامل کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے کہ حضور sym-9 نے نبی غیر تشریعی کے بھی ختم ہو جانے کی اطلاع دے دی۔ اور وہ یوں کہ آپ نے حضرت علی sym-5 کو حضرت ہارون sym-9 کے ساتھ تشبیہہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ہارون sym-9 نبی تشریعی نہ تھے بلکہ غیر تشریعی تھے۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت علی sym-5 کے نبی غیر تشریعی ہونے کی بھی حضور sym-9 نے نفی فرماتے ہوئے فرمایا کہ لا نبی بعدی ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ نہ تشریعی ، اور نہ ایسا جیسے ہارون sym-9 تھے یعنی غیر تشریعی ۔

مرزائیوں کا یہ کہنا کہلا نبی بعدیمیں لا نفی کمال کے لئے ہے۔ یعنی حضور sym-9 کے بعد کوئی کامل نبی نہیں۔ سراسر ایک لغو خیال ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ تم لوگ جو لا نبی بعدی میں خبر لا کامل نکالتے ہو ۔ کسی دلیل سے نکالتے ہو کیالا کی خبر ہمیشہ کامل ہی آیا کرتی ہے؟ اگر کہو کہ ہاں تو دلیل؟ اگر نہیں تو حماقت کا اقرار کرو۔ ہم مانتے ہیں کہ لا کی خبر کامل آسکتی ہے۔ مگر نہ یہ کہ ہر جگہ بلکہ موقعہ بموقعہ۔ جہاں بغیر اس کے نکالے ہوئے کلام صحیح نہ ہو سکے ۔ مثلاً حضور sym-9 کا ارشاد ہے : لا صَلوةِ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فَاقْرَاء وَامَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآن12 اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ تمہیں قرآن سے جو کچھ آسان ہو پڑھو اور حضور ﷺ یہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز نہیں جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے۔ قرآن کا تو یہ منشا ہے کہ جو جگہ آسان نظر آئے اسے پڑھ لو۔ چاہے سورہ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورت مگر حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ ہی پڑھو اب یہاں قرآن وحدیث میں تطبیق دینے کے لئے ہم لا صلوة إِلَّا بِفَاتِحَةِ الكتاب میں خبر لا کاملہ نکالیں گے۔

لفظ لا ( نفی جنس) کی بحث:

الاصلوة الا بفاتحة الكتاب جو سورة فاتحہ نہ پڑھے۔ اس کی نماز کامل(دیکھئے میں ۲۸ پر)نہیں۔ البتہ ہو جائے گی۔ یوں قرآن وحدیث میں تطبیق ہو جائے گی۔ مگر یہاں خبر لا کاملہ جو نکالی گئی۔

صرف اس لئے کہ قرآن میں اور اس حدیث میں تطبیق ہو جائے اور قرآن وحدیث دونوں پر عمل کر لیا جائے اور جہاں کسی قسم کی ضرورت نہ ہو۔ وہاں خبر لا کامل نکالنا جہالت کا بین ثبوت ہے۔ اس لئے کہ خبر لاجب محذوف ہو تو اس کی خبر امور عامہ سے ہوا کرتی ہے۔ ذرا نحو کی مشہور کتاب شرح جامی کھولو۔ اور بحث لائی جنس نکالو اور پڑھو کہ اس میں لکھا ہے:وَيُحْذَفُ خبر لا هذه حذفًا كَثِيرًا إِذَا كَانَ الخَبْرُ عَامًا كَا الْمَوجُودِ وَ الْحَاصِل21 یعنی لائٹی جنس کی خبر بہت حذف کی جاتی ہے۔ جب کہ وہ خبر امور عامہ میں سے ہو جیسے موجود و حاصل ۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جہاں بھی کہیں لا نفی جنس کی خبر محذوف ہو۔ وہ امور عامہ میں سے ہوگی ۔ جیسے موجود حاصل ثابت و کائن ہاں اگر قرینہ ہو اس امر کا کہ یہاں خبر لا امور عامہ میں سے نہیں ہو سکتی۔ تو وہاں ہم ان امور کے سوا کوئی دوسری خبر نکال سکتے ہیں۔ جیسے کہ لا صلوة کاملہ گذر چکا۔ کہ وہاں قرینه آيت فاقراء وا ما تيسر من القرآن ہے۔ اور جہاں کوئی قرینہ نہ ہو وہاں لا کی خبر امور عامہ سے ہوگی جیسے کہ شرح جامی والے نے بھی لکھا ہے کہ کلمہ طیبہ لا الهَ اِلَّا اللہ میں بھی یہی لا ہے۔ یہاں اس کی خبر موجود ہے یعنی لا الله موجود إِلَّا الله ( مرزائیو! کیا تم یہاں بھی لا کی خبر کامل ہی نکالو گے کہ لا الهَ كَامِلٌ إِلَّا الله اگر یونہی ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارے بہت سے خدا ہیں۔ ایک تو کامل ہے۔ اور سب ناقص ہیں ۔ مگر اس کامل خدا کے سوا اوروں کو بھی اپنا معبود جانتے ہو۔ اس لئے کہ یہاں نفی 22 کمال ہے۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی کامل معبود نہیں ہاں ناقص ہیں، اور وجود کی نفی سے نفی شے ہو جاتی ہے۔ جیسے کہ کہا جائے لَا رَجُل في الدار ، اور خبر اس کی موجود نکالی جائے ۔ یعنی لَا رَجُلَ مَوْجُودٌ في الدار کوئی مرد حویلی میں موجود نہیں تو یہاں نفی اگر چہ وجود کی ہے۔ مگر اس کی نفی سے نفی رجل یقینا ہورہی ہے۔ شرح جامی ص ۸۶ حاشیہ ص ۶ پر لکھا ہے:

لارجل بتقدير لا رجل موجود لنفى نفس الرجل لا لنفى صفته والوجود ان كان صفته لكن اذا نفى عن الشيى يقال نفى الشي ولا يقال نفى صفته الشي اذانفي الشي ليس الا نفى وجوده ففي الصفة صار بمعنى نفى غير الوجود فكما يكون لنفي صفة الجنس يكون لنفى الجنس الخ

یعنی لا رجل بتقدير لا رجلموجود میں نفی ذات رجل کی ہے نہ یہ کہ اس کی صفت کی اور وجود اگر چہ اس کی صفت ہے لیکن جب کسی شے سے وجود کی نفی کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس شے کی نفی کی گئی۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ صفت شئے کی نفی کی گئی۔ اس لئے کہ نفی شے تھی وجود شے ہی ہوا کرتی ہے اور تھی صفت شے میں نفی غیر الوجود ہوتی ہے۔ پس لا جیسے نفی صفت جنس کے لئے ہے ایسے ہی نفی ذات جنس کیلئے ہے۔ انتھی

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جہاں خبر لا موجود ہوگی۔ وہاں اس شے کی ذات کی نفی ہوگی۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ لافی صفت کے لئے ہی نہیں آتا ۔ بلکہ یہ ینی ذات جنس کے لئے بھی آتا ہے۔ مرزائیوں کا نفی کمال کو لئے پھرنا جہالت کی نشانی ہے۔

اس کے بعد اب ہم حضور sym-9 کے ارشاد لا نبی بعدی میں غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہاں خبر لا محذوف ہے اور شرح جامی کی عبارت بتا چکی ہے کہ جہاں لاکی خبر محذوف ہو۔ وہاں اس کی خبر امور عامہ میں سے ہوتی ہے۔ لہذا ہم لا نبی بعدی میں خبر موجود نکالیں گے ۔ کہ لانبی موجود بعدی اور شرح جامی کے حاشیہ سے یہ پتہ چلا۔ کہ نفی وجود مستلزم نفی شے ہے۔ تو اب حدیث کا مطلب صاف ہے۔ کہ حضور sym-9 کے اس فرمان کا یہ معنی ہے کہ میرے بعد کسی نبی کا وجود ہی نہیں ۔ نبوت قیامت تک کے لئے مسدود ہے۔ کوئی نبی میرے بعد پیدا نہ ہوگا۔ ہاں مرزائیوں کے پاس اگر کوئی ایسا قرینہ موجود ہے۔ جو یہاں موجود خبر نکالنے سے روکے اور کامل نکالنے کا مقتضی ہو ۔ اگر کوئی ایسی آیت ہو۔ جو اس حدیث سے ٹکرائے اور اس مجبوری سے تطبیق کے لئے خبر لا کامل نکالنی پڑ جائے تو پیش کریں کہ اللہ تو فرماتا ہے کہ حضور sym-9 کے بعد نبی آتے رہیں گے اور حضور sym-9 کا فرمان اس آیت سے ٹکراتا ہے لہذا تطبیق کے لئے لا نبی بعدی میں خبر کامل نکالنی پڑے گی۔ مگر مرزائیو! تم ایسی آیت اور ایسا قرینہ کیسے دکھا : نہ کیسے دکھا سکتے ہو؟ جب کہ قرآن خود فرما رہا ہو۔ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین یعنے دنیا کو علی الاعلان سنارہا ہو کہ محمد مصطفی ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہے اور جبکہ حضور sym-9 خود فرمارہے ہوں ۔ كَانَتْ بَنُوا إِسْرَائِيلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءَ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي (مسلم شریف کتاب الامارة عن ابی ہریرہ )

ترجمہ: بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء فرماتے تھے جب ایک نبی تشریف لے جاتے ۔ تو دوسرا ان کے بعد آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی طرف جو انبیاء حضرت موسیٰ sym-9 کے دین پر اور ان کی شریعت کے متبع آتے رہے۔ وہ غیر تشریعی تھے اور حضور sym-9 نے انہیں کا ذکر فرما کر فرمایا۔ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ آپ کا فرمان ز بر دست موید ہے اس امر کا کہ لانبی کی خبر موجود ہو اور جبکہ حضور sym-9 نے صاف فرما دیا ہو إِنَّ الرَّسَالَةَ وَالنَّبُوَّةِ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبي23 ترجمہ: بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی ہے ۔ انتھی

ذرا غور تو کرو کہ حضور sym-9 رسالت اور نبوت دونوں کا نام لے کر ارشاد فرمارہے ہیں کہ میرے بعد نہ کوئی رسول (یعنی نبی تشریعی ) ہے اور نہ کوئی نبی (یعنی نبی غیر تشریعی ) ہے تو کیا یہاں بھی ولا نبی میں خبر لا کامل نکالو گے۔ جبکہ حضور sym-9 نے فلا رسول بھی پہلے فرمادیا ہے۔ فتدبروا

(ماخوذ ۔۔۔ ختم نبوت ۔۔۔از علامہ ابو النور محمد بشیر کوٹلی رحمۃ اللہ علیہ )


  • 1 (صحیح مسلم شریف ج:2، ص: 261)
  • 2 (جواہر البحار، ج: 1، ص :730)
  • 3 (مسلم شریف، ج :2، ص :261)
  • 4 (مواہب لد نیہ ،ج :1صفحہ: 188)
  • 5 (مشكوة كتاب الفتن ص :512، مسلم شریف ص :199، ج :1)
  • 6 ( متفق علیہ مشکوۃ ص :511،مسلم شریف ج :2، ص :248 بخاری شریف ص :510، ترمذی شریف ج :2، ص :109)
  • 7 ( بخاری شریف مسلم ج :1،ص:11)
  • 8 ( بخاری شریف ج:1،ص:491، و مسلم شریف ص :126، کتاب الامارة )
  • 9 (مشکوۃ کتاب الفتن ص :514)
  • 10 (مشکوۃ شریف ص:513)
  • 11 (مسلم شریف ج :2، ص :278، بخاری ج :2، ص :13واللفظ للمسلم )
  • 12 (سورۃ مزمل آیت نمبر :20)
  • 21 ( شرح جامی مطبوعه مطیع قیومی ص ۸۷)
  • 22 حاشیہ صفحہ نمبر ۳۰ پر ملاحظہ فرمائیں۔
  • 23 (ترمذی ج ۲ ص ۵۱)

Netsol OnlinePowered by