علامہ ابن کثیر
کا فتویٰ:
علامہ ابن کثیر
اپنی تفسیر ابن کثیر جلد ۸ ص ۸۹ میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:
هَذِهِ الْآيَةُ نَصُّ فِي أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَإِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ بِالطَّرِيقَ الْأَولَى وَالْأَحْرَى لِأَنَّ مَقَامَ الرِّسَالَةِ أَخَصُّ مِنْ مَقَامِ النُّبُوَّةِ فَإِنَّ كُلَّ رَسُول نَبِيٌّ وَلَا يَنْعَكِسُ وَبِذَالِكَ وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الْمُتَوَاتِرَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَدِيثٍ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى بِالْعِبَادِ ارسَالُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ثُمَّ مِنْ تَشْرِيفِهِ لَهُ خَتْمُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ بِهِ وَالْمَالُ الدِّينِ الْحَنِيفِ لَهُ وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ عَنْ إِنَّهُ لَانَبِيَّ بَعْدَهُ لَيَعْلَمُوا أَنَّ كُلَّ مَن ادَّعَى هَذَا الْمَقَامَ بَعْدَهُ فَهُوَ كَذَّابٌ آفَاكَ دَجَّالٌ ضَالٌ مُّضِلٌ
اس عبارت کو علامہ اسمعیل حقی
نے بھی نقل فرمایا ہے) دیکھو ( روح البیان ج ۷ ص ۱۸۷)
ترجمہ: یہ آیت نص ہے۔ اس بارے میں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب آپ کے بعد نبی نہیں تو رسول بطریق اولئ واخری نہیں اس لئے کہ مقام رسالت مقام نبوت سے خاص ہے۔ ہر رسول نبی ہے اور ہر نبی رسول نہیں اور جماعت صحابہ ضیا سے احادیث متواترہ اس بارے میں وارد ہوئی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بندوں پر حضور
کا ان کی طرف بھیجنا ہے۔ پھر اللہ کا مشرف فرمانا ہے۔ حضور ﷺکو آپ کے وجود با وجود سے انبیاء اور مرسلین کو ختم کر دینے سے اور دین حنیف کو آپ کے لئے پورا کر دینے ہے۔ اور تحقیق اللہ نے قرآن میں اور حضور ﷺ نے احادیث متواترہ میں خبر دے دی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تا کہ لوگ جان لیں کہ ہر وہ خص شخص جو جو حضور
کے بعد نبوت کا دعوے کرے وہ کذاب ہے۔ بہت مفتری ہے۔ دجال ہے۔ گمراہ ہے۔ گمراہ کرنے والا ہے۔
اس عبارت سے ہمیں چند فوائد حاصل ہوتے ہیں:
تو يہ كہ ولكن رسول الله وخاتم النبین میں نہین ہے بقول فرقہ مرزائیہ مخصوص نبی یعنے تشریعی نبی مراد نہیں۔ بلکہ تشریعی نبی اور غیر تشریعی بوجہ عمومیت لفظ نبی دونوں مراد ہیں۔ اور یہ فائدہ علامہ موصوف کے اس جملہ سے حاصل ہوا کہ إِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ بِالطَّرِيقِ الأُولَى وَالا اخرى کہ جب آپ کے بعد نبی نہیں تو رسول بطریق اولی داخری نہیں ۔ اس لئے کہ مقام رسالت مقام نبوت سے خاص ہے الخ تو معلوم ہوا کہ علامہ موصوف
یہ بتارہے ہیں کہ نبین سے مراد بالعموم نبی مراد ہیں۔ نہ یہ کہ مخصوص نبی یعنی تشریعی ۔ اس لئے کہ وہ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ سے نبی اور رسول دونوں کی نفی کر رہے ہیں۔
یہ کہ لانبی بعدی میں خبر لا کامل نہیں اور یہ فائدہ بھی اسی عبارت سے حاصل ہوا کہ علامہ مذکور نے فرمایا إِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ بالطَّرِيق الأولى اب إِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُمیں اگر خبر لا کامل نکالی جائے تو ان کا فَلَا رَسُولَ بِالطَّرِيقِ الأولى والأخری کہنا لغو۔ اور آگے ان کا یہ دلیل فرمانا کہ لان مقام الرساله اخص من مقام النبوةبیکار ثابت ہوگا۔
علامہ مذکور
کا یہ ارشاد ثُمَّ مِنْ تَشْرِيفِهِ لَهُ خَتُمُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ بہ اس امر کی وضاحت کر رہا ہے کہ حضور
کے وجود با وجود سے نبی تشریعی اور غیر تشریعی دونوں ختم کر دیئے گئے ۔ اس لئے کہ علامہ مذکور نے لفظ انبیا پر ہی اکتفا نہیں کیا کہ فرقہ مرزائیہ کو یہاں بھی اپنا داؤ چلانے کا موقعہ مل جائے ۔ کہ انبیاء سے مراد نبی تشریعی ہیں بلکہ علامہ مذکور نے انبیاء کے بعد لفظ مرسلین فرما کر جتلا دیا کہ انبیاء سے میری مراد نبی غیر تشریعی ہیں۔ تشریعی نہیں تشریعی نبی مرسلین سے مراد ہیں۔
ہمیں یہ حاصل ہوا کہ حضور
کے بعد مدعی نبوت چاہے وہ کسی قسم کی نبوت کا دعوی کرے کا فر ہے۔ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ مفتری اور دجال ہے۔ اور یہ علامہ مذکور کی اس عبارت سے معلوم ہوا۔ لِيَعْلَمُوا أَنَّ كُلَّ مَنِ ادَّعَى هُذَ الْمَقَامَ بَعْدَهُ فَهُوَ كَذَّابٌ أَفَاكَ دَجَّالٌ صَا لٌ مُضِلَّ یعنی تا کہ لوگ جان میں حضور
کے بعد جو کوئی نبوت کا دعوی کرے وہ کذاب ہے۔ بہت مفتری ہے اور دجال ہے۔ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔
چونکہ علامہ موصوف پہلے یہ فرما آتے ہیں کہافاکان لا نبي بعده فلا رسول الخر اور ثم من تشريفه ( ختم الانبياء والمرسلین ) اور ان سے ہر قسم کی نبوت کا اختتام ظاہر ہو رہا ہے جیسے کہ فائدہ اول اور ثالث میں گذرا۔ لہذا ان کا یہ فتوے ہر قسم کے مدعی نبوت پر صادر ہوگا۔ چاہے کوئی تشریعی نبی ہے، چاہے غیر تشریعی اور ظلی بروزی، وہ بہر صورت کا فرود جال ہے۔
روح البیان ص ۱۸۸ ج 7سے میں بحر الکلام کے حوالے سے )
علامہ اسمعیل حقی حضور
کے بعد مدعی نبوت کو کافر لکھتے ہیں:
قَالَ أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ لَانَبِيَّ بَعْدَ نَبِيِّنَا لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنِ وَقَوْلَهُ عَلَيْهِ السَّلَامِ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَمَنْ قَالَ بَعْدَ نَبِيِّنَا نَبِي يَكْفُرُ لِأَنَّهُ أَنْكَرَ النَّصَّ وَكَذَالِكَ لَوشَكَ فِيهِ لِأَنَّ الْحُجَّةَ تَبَيَّنَ الْحَقِّ مِنَ الْبَاطِلِ وَمَنِ ادَّعَى النَّبُوَّةَ بَعْدَمَوْتِ مُحَمَّدٍ وَلَا يَكُونُ دَعْوَاهُ إِلَّا بَاطِلًا.
ترجمہ: اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اس لئے کہ اللہ نے فرما دیا ولكن رسول الله وَخَاتِم النبیین اور حضور ﷺنے فرمادیا ۔ لانبی بعدی اور جس نے ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبی مانا وہ کافر ہو جائے گا۔ اس لئے کہ اس نے نص کا انکار کیا۔ ایسے ہی اگر کسی نے اس میں شک کیا وہ بھی کافر ہے۔ اس لئے کہ دلیل نے حق کو باطل سے ظاہر واضح کر دیا ہے اور جس نے حضور اقدس ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کیا اس کا دعوی باطل ہوگا۔
یہ صاف دلیل ہے اس امر کی کے حضورﷺ ہر قسم کے نبی کے خاتم ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس مرزائیوں پر کہ محض حضرت قادیانی کی خود ساختہ نبوت کے لئے وہ ایک واضح امر کو چھپا کر مخلوق اللہ کو گمراہ کرتے ہیں اور اپنی طرف سے طرح طرح کی بے اصل تاویلیں کر کر کے نامہ اعمال سیاہ کرتے ہیں۔
کا ارشاد ختم نبوت پر اجماع منعقد ہے:علامه سید مرتضی زبیدی
امام غزالی
کے اس قول کی شرح میں (وَنَعْتَقِدُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى خَاتِمًا لِلنَّبِيِّينَ) فرماتے ہیں:
وَهُذَا مِمَّا أَجْمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ السُّنَّةِ وَثَبَتَ بِالكِتَابَ وَالسُّنَّةِ فَالكِتابُ قَوْلَهُ وَلكن رسول الله وخاتم النبيين والسنة فَمَارُوتَ وَ إِنِّي لَخَاتَمَ النَّبَيِّنِ وَادَمُ مُنْجَدَلْ بَيْنَ الْمَاءِ والطين ( الى ان قال ) وَيُرْوَى أَيْضًا لَا نَبِيَّ بَعْدِي فَقَدْ جَاءَ حَدِيثُ الْخَتْم مِنْ طُرُق كَثِيرَةٍ بِالْفَاظِ مُخْتَلِفَةٍ. وَالْإِجْمَاعُ فَقَدِ اتَّفَقَتِ الْامَّةُ عَلَى ذَلِكَ وَعَلَى تَكْفِيرِ مَن أَدْعَى النَّبُوَّةَ بَعْدَهُ1
ترجمہ: حضور ﷺ کا نبیوں کا ختم کر دینے والا ہونا اہل سنت کے اجماع سے ثابت ہے اور قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ قرآن میں تو اللہ تعالی کا فرمانا ولكن رسول الله وخاتم النبيين اور حدیث یوں مروی ہے کہ اِنِّی لَخَاتَمُ النبيين وَآدَمُ مُنْجَدَلْ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِينِ بنے تحقیق میں خاتم النبیین تھا۔ دراں حالیکہ آدم
پانی اور مٹی میں تھے۔ اور یہ یہ بھی آیا ہے کہ لابنی بعدیاور تحقیق ختم نبوت کی حدیثیں بہت اور : طرح سے الفاظ مختلفہ کے ساتھ آئی ہیں اور اجماع ۔ پس امت نے ختم نبوت پر اتفاق کیا ہے اور حضور ﷺکے بعد نبوت کے دعوی کرنے والے کو سب بالا تفاق کافر کہتے ہیں۔ انتہی
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ سب کا ختم نبوت پر اجماع ہے۔ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں اور جو حضور ﷺکے بعد نبوت کا دعوی کرے وہ یقینا کافر ہے۔
کا فتوی:حضرت ملا علی قاری
شرح فقہ اکبرص ۱۵۰ میں حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والے کو کافر لکھتے ہیں۔
فرمایا: وَدَعْوَى النَّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفْرٌ بِالْأَجْمَاعِ یعنی ہمارے نبی ﷺکے بعد نبوت کا دعوی کرنا بالا جماع کفر ہے۔
(ماخوذ ۔۔۔ ختم نبوت ۔۔۔از علامہ ابو النور محمد بشیر کوٹلی رحمۃ اللہ علیہ )