نبوت رحمت ہے اور پھر رحمت محسنوں کے قریب ہے۔ اِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ1بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرة الخ2
ترجمہ: ہاں جس نے سونپ دیا اپنا منہ اللہ کو اور وہ محسن ہے۔ پس اس کے لئے اجر ہے اور پھر فرماتا ہے کہ وكَذَالِكَ نَجْزِئُ الْمُحْسِنِينَ3 اب ضرور ہے کہ محسن نبی بنیں ۔4
واہ سبحان اللہکیا کہنا۔ اس قسم کے نرالے استدلال آپ لوگوں کو ہی کرتے دیکھا۔ ہم اگر یوں کہیں کہ نبوت تشریعیہ یعنی رسالت رحمت ہے۔ اور پھر رحمت محسنوں کے قریب ہے۔ ان رحمة الله قريب من المحسنين الخ اب ضرور ہے کہ محسن نبی تشریعی بنیں تو جو تمہارا جواب وہی ہمارا جواب !
معلوم ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے منہ پھیر بیٹھے ہیں۔ آپ نے مرزا صاحب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ اور اگر آپ نے اپنے اس واحد قہار پروردگار سے منہ نہیں پھیرا ہے تو کیا آپ بھی نبی ہیں ؟ اگر نہیں تو بقول تمہارے ( نعوذ بالله ) اللہ کا فرمانا إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ، كَذَالِكَ نَجْزِئُ الْمُحْسِنِينَ جھوٹا ہوا۔ اگر ہیں تو فرمائیے کہ آج تک دعوی کیا ہی نہیں یا ہم تک اطلاع نہیں پہنچی۔ اگر واقعی آپ بھی نبی بن چکے ہیں تو خوب رہے گی۔ یعنی قادیانی کا ساتھی ملتانی کے بنی۔
خوب گذرے گی جومل بیٹھیں گے دیوانے دو!
جناب فخر الدین صاحب آپ کو شاید اس استدلال پر بڑا فخر ہو مگر سچ پوچھو تو یہ نرالے ڈھنگ کا استدلال پاکٹ میں ہی رکھنے کے قابل ہے۔ شائع کرنے میں تو ایک ادنے فہم کا مالک بھی اس طرز کے استدلال کو علامت جہالت ٹھہرائے گا۔ ارے آج مرزا صاحب ہی ایک ایسا شخص پیدا ہوا۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو اپنا منہ سونپ دیا۔ خدارا انصاف سے کہو۔ حضرت خلیفہ اکبر صدیق
نے کیا اپنا مال و جان اللہ کی راہ میں قربان کر کے اللہ کو اپنا منہ نہ سونپ دیا تھا۔ حضرت عمر
اور حضرت عثمان
و مولا علی
بھی اللہ نے کیا ( نعوذ بالله ) بقول تمہارے اللہ عزوجل سے منہ پھیر لیا تھا۔ جو ان جلیل القدر ہستیوں میں سے کوئی احمدیہ پاکٹ بک کا شائع کرنے والا فخر الدین ملتان کا تھا۔بھی نبی نہ ہوا۔ مرزا صاحب سے پہلے بڑے بڑے قطب الاقطاب اولیا ء اللہ مثلاً حضرت پیران پیر قدس سرہ العزیز حضرت خواجہ نقشبند و غیر هما گذرے۔ ان میں سے تو کوئی نبوت کا مدعی نہ ہوا۔ مگر آج مرزا صاحب ہی ایک ایسے شخص پیدا ہوئے ۔ جنہوں نے اپنا منہ اللہ کو سونپا اور وہ نبی بن گئے ۔ مگر ان سے پہلے کوئی بھی ایسا نہ گذرا ۔ کہ جس نے اپنا منہ اللہ کو سونپ دیا ہو ۔.........(افسوس)
ارے اس سے تو ہمارے دعوی کو تقویت پہنچی کو تقویت پہنچتی ہے کہ حضور ﷺیا اور رحمت ہیں وما أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ39 اور پھر رحمت محسنوں کے قریب ہے۔ ان رحمة الله قريب من المحسنين5 لہذا حضور
جب محسنوں کے ہر وقت قریب ہیں پھر انہیں سوائے اپنے پیارے نبی کے کسی دوسرے نبی کی کیا ضرورت ۔ ہاں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیر لیا ہے۔ جنہیں اللہ کا مطلق خوف نہیں رہا۔ وہ چونکہ محسن نہیں اور محسن کے قریب رحمت نہیں۔ اس لئے وہ بنالیں اپنا ایک علیحدہ نہیں۔ اور وہی اسے نبی کہتے پھریں۔ مسلمان ہرگز نہیں کہیں کیونکہ ان کا پیارا نبی ان کے پاس موجود ہے۔