logoختم نبوت

کیا عذاب کا آنا نبی ہونے کی دلیل ہے؟

اعتراض:

وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا1 عذاب جب ہی آتا ہے۔ جب کہ رسول آچکا ہو۔ لہذا مرزا صاحب کے زمانہ میں طاعون کا پھیلنا دلیل ہے اس امر کی مرزا صاحب نبی ہیں۔

جواب:

آپ کے اس فہم پر افسوس کہ آپ نے نبی کا آنا موجب عذاب سمجھ لیا۔ کہ نبی اپنے ساتھ ساتھ عذاب لے کر آتا ہے ۔ استغفر الله یہ عقیدہ آپ ہی کو مبارک ہو۔ کیا ہمارے آقا و مولا حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ جب تشریف لائے تو دنیا پر عذاب آیا تھا یا حضورsym-9 کو اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ یعنی اے محبوب اللہ ان پر عذاب نہ کرے گا۔ دراں حالیکہ تو ان میں رونق افروز ہے۔ ذرا غور کرو اور ایسے ایسے کلمات کہنے سے رکو۔ اگر عذاب کا آنا اس امر کی دلیل ہے کہ نبی آیا ہے۔ تو ذرا کان لگا کر سنیئے - کہ بخاری شریف باب الفرار من الطاعون میں یہ حدیث آتی ہے کہ عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَامِرٍ أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرَغَ بَلَغَهُ إِنَّ الْوَبَاءَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْبَرْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن عَوْفٍ أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِأَرْضِ فَلَا تَقَدِّمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعُ بِأَرْضِ وَانْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرَجُوا فَرَارًا مِنْهُ فَرَجَعَ عُمَرَ مِنْ سَر ع (بخاری )

ترجمہ: عبدالله بن عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر sym-5 شام کی طرف نکلے ۔ جب سرغ ( ایک شہر ہے) پہنچے۔ تو انہیں یہ خبر پہنچی کہ شام میں طاعون پھیلی ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی اللہ نے حضرت عمر sym-5 کو خبر دی کہ حضورsym-9 نے فرمایا ہے کہ جب تم سنو کہ فلاں جگہ طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ۔ اور اگر کسی جگہ طاعون پڑے اور تم اسی جگہ ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو۔ پس حضرت عمر sym-5وہاں سے لوٹ آئے ۔

فرمائیے! کہ شام میں جو طاعون پڑی تو اس وقت شام میں کون سا نبی تھا۔ اور اگر نہیں تھا۔ تو تمہارا کہنا کہ عذاب کا آنا علامت بعثت نبی ہے۔ غلط ہوا یا نہ۔ یقیناً غلط ثابت ہوا۔ ایسے ہی انگلستان میں طاعون پڑی ۔

شاہ جہان کے عہد حکومت میں ہندوستان میں ز بر دست طاعون پڑی اور فی الحال بھی اس کا وقوع کہیں نہ کہیں ہوتا رہتا ہے۔ تو کیا ان ایام میں بھی کوئی نبی آیا ؟ آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ مرزا صاحب کے زمانہ میں طاعون کے پھیلنے کا سبب واقعی مرزا صاحب کا وجود تھا۔ مگر نہ برائے علامت نبوت مرزا صاحب۔ بلکہ اسلئے کہ آپ کے زمانہ میں مرزا صاحب کی طفیل تعلیم محمد رسول اللہ ﷺ کا جھٹلا نا عام تھا۔ قرآن شریف میں طرح طرح کی تعریفیں کی جاتی تھیں۔ احادیث کو ردی کے ٹوکرے میں پھینکنے کے قابل سمجھا جاتا تھا مرزا صاحب کے نزدیک اجماع کی کچھ وقعت نہ تھی۔ علماء کرام کو گالیاں حتی کہ انبیاء عظام تک خصوصا حضرت عیسیsym-9 آپ کی گالیوں سے نہ بچے۔

حضرت سید الشہداء حسین کو جو حد درجہ کے لاڈلے تھے حضورﷺ کے ) نظر حقارت سے دیکھ کر صد حسین است در گریبانم ! 44کہا جاتا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے بیٹا ثابت کرا کے انت منی بمنزلہ ولدی لکھا جاتا تھا۔ کہیں نعوذ باللہاللہ کے لئے نطفہ ثابت کیا جاتا تھا ۔ کبھی خود خدا اور کبھی رسول اور کبھی کہا جاتا تھا کہ میں مسیح زماں اور مہدی موعود ہوں وغیرہ۔ چونکہ حضور ﷺ کی بعثت عامہ ہے ۔ وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ2 اور آپ کی مقدس تعلیم دنیا کے کونے کونے چپہ چپہ پر پہنچ چکی ہے۔ لہذا جہاں بھی اس کا جھٹلا نا عام ہوگا۔ وہاں عذاب آئے گا ۔

مرزا صاحب کے زمانہ میں تعلیم محمدیﷺ تسلیم کی تکذیب عام تھی۔ لہٰذا طاعون پڑی۔ یہی مطلب آیت مذکورہ کا ہے کہ ہم مذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ ہم رسول مبعوث کر لیں ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہﷺ کو وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ کا سہرا سر باندھ کر رسول مبعوث فرمایا ۔ اب آپ کے تشریف لے آنے کے بعد بھی اگر اللہ کی نافرمانیاں ہوتی رہیں اور لوگ اپنے نبی کو چھوڑ کر اپنا علیحدہ نبی بنانے لگیں تو ضرور عذاب آئے گا۔


  • 1 ( سورة بنی اسرائیل آیت نمبر:15) ( پاکٹ بک ص :256)
  • 2 ( سورة سباء آیت نمبر (2)
  • 44 (ا نزول مسیح صفحہ نمبر ۹۹ مندرجہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ صفحہ نمبر ۷ ۳۷ از مرزا نام احمد قادیانی

Netsol OnlinePowered by