نبیﷺ روحانی سراج منیر (سورج) تھے(احزاب ع6)۔ پس جس طرح جسمانی سورج کے لئے ایک چاند ہوتا ہے۔ اسی طرح نبی کریمﷺ کے لئے بھی ایک چاند ہونا ضروری ہے۔ ورنہ وہ سورج کیسا۔ جس کے لئے چاند نہ ہو۔ 1
والله اعلم کسی مصلحت سے آپ نے یہاں صرف آیت کے ترجمہ پر اکتفا کیا۔ لو میں پڑھ دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ حضور اقدسﷺکو فرماتا ہے۔ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَّنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا2 اس آیت میں اللہ عز وجل حضور انور ﷺکو سراج منیر فرماتا ہے۔ مگر افسوس کہ تم لوگ مرزا جی کی خود ساختہ نبوت کی خاطر قرآن مجید کے معنی بالکل ہی غلط کرنے لگے ۔ خدارا ذرا انصاف سے کہنا کہ کیا یہاں سراج کا معنی سورج ہے یا چراغ ۔ یہ کس نے لکھا ہے۔ کہ سراج سورج کو کہتے ہیں۔ آپ قیامت تک نہیں دکھا سکیں گے کہ سراجا منیرا سے مراد سورج ہے۔ ذرا لغت کا ہی مطالعہ کر لیا ہوتا. منتهی الارب فی لغات العرب کی جلد ثانی ص ۳۲۲ پر دیکھ لیتے کہ وہاں کیا لکھا ہے۔ سراج بالکسر چراغ ۔ یعنی سراج چراغ کو کہتے ہیں علامہ اسمعیل حقی
فرماتے ہیں۔ بالفارسیۃ ( یعنی چراغ روشن و درخشاں ) یعنی سرا جا منیرا کا معنی یہ ہے۔ چراغ روشن اور چمکتا ہوا۔3
اور مفسرین کرام نے اس کی وجہ یہی لکھی ہے کہ حضور ﷺ کو چراغ کہا گیا اور سورج نہیں کہا گیا اور حالانکہ سورج چراغ سے زیادہ روشن اور چکنے والا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور
کو اللہ تعالیٰ نے چراغ روشن اس لئے فرمایا کہ جیسے ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہو سکتے ہیں۔ ایسے ہی حضور
کے وجود با وجود سے صحابہ کرام
نے اپنے قلوب کو نور ہدایت سے منور فرمایا۔ اور حضور
نے فرمایا۔ اَصْحَابی كَالنُّجُومِ فَبِأَتِهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ میرے صحابی مثل ستاروں کی ہیں۔ پس ان میں سے تم کسی کی بھی اقتدا کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اسی طرح سلسلہ بسلسلہ مخلوق خدا اس ایک سراج منیر سے اپنے دل نور ہدایت سے منور کرتی چلی آئی۔ برخلاف سورج کے کہ سورج سے کوئی چراغ روشن کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ چنانچہ امام فخر الدین رازی
نے بھی اپنی تفسیر ص ۷۸۹ جلد ۶ پر یہی لکھا ہے اور بھی بہت سی وجوہ لکھی ہیں۔ مگر اس وقت ہمیں بتانا یہ ہے کہ سراج کا معنی چراغ ہے نہ کہ سورج۔ تو اب تمہار ا سراج کا معنی سورج کرنا اور پھر مرزا جی کی نبوت ثابت کرنا بنا الفاسد علی الفاسد ہے۔
سبحان اللہ کیا ہی عجیب استدلال ہے۔ ذرا اتنا تو بتلائیے کہ تیرہ سو برس سے یہ سورج کیا بغیر چاند کے ہی چلا آیا۔ یعنی مرزا صاحب سے قبل اتنی و راز مدت میں تو یہ سورج بغیر چاند کے رہا اور تیرہ سو برس کے بعد مرزا صاحب کے زمانہ میں آکر اس کے لئے چاند بنا افسوس که مرزا صاحب کی محبت میں عقل بھی روانہ ہوئی ۔ آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ محمد رسول الله ﷺ ایک ایسے سورج ہیں۔ کہ یہ سورج تو ان کا ایک ادنے ساپر تو اور کرشمہ ہے اس سورج کے لئے تو ایک چاند ہے اور شمس مدینہﷺ کے لئے ہزاروں چاند حضور ﷺ سے پہلے گزر چکے (یعنی انبیاء
) چونکہ سورج کے طلوع ہونے پر چاند بے نور ہو جاتا ہے۔ اسی واسطے محمد رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے آنے سے پہلی تمام شریعتیں منسوخ ہو گئیں۔ اور حضور
کی شریعت قیامت تک کے لئے قائم کر دی گئی اور چونکہ سورج جب تک موجود رہے چاند نہیں نکلتا۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺجیسے سورج کے ہوتے ہوئے کوئی نبی نہیں آسکتا اور جیسے سورج کی روشنی میں کسی دوسری روشنی کی حاجت نہیں رہتی ۔ ایسے ہی حضور پر نور محمد رسول اللہ ﷺکی شریعت ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور چاند کی حاجت نہیں۔ سورج کے ہوتے ہوئے چراغ روشن نہ کرے گا۔ مگر جس کو مراق ہوا اور جو بے وقوف و پاگل ہو۔
نُور القمر مستفاد من نور الشمس چاند کی روشنی سورج کی روشنی سے حاصل کردہ ہے۔ مگر چاند سورج سے روشنی لے کر سورج نہیں کہلا سکتا۔ تو جب بقول تمہارے مرزا شمس مدینہﷺ کے لئے (نعوذ باللہ ) چاند ہیں تو وہ حضور انورﷺسے فیض صاحب حاصل کر کے، نبی کیسے بن گئے۔