مَنْ يُطِعَ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ1 جو اللہ اور حضرت رسول کریم ﷺ کی اطاعت کرنے والے ہوں گے ۔ وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے ۔ جن پر اللہ تعالی نے نعمتیں کیں۔ اور وہ چار قسم کے لوگ نبی ۔ صدیق شہید صالح ہیں۔ یہ آیت دروازہ نبوت کے مسدود نہ ہونے پر نص صریح ہے۔ 2
جناب والا معیت سے عینیت کس طرح ثابت کر لی۔ اس آیت میں تو حق سبحانہ ان لوگوں سے جو اللہ اور اللہ کے رسول کے مطیع ہیں۔ یہ وعدہ فرما رہا ہے کہ ان کا حشران لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے نعمتیں کی ہیں۔ تم جو ترجمہ کرتے ہو وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے۔ بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ مع مقاربت کے لئے آتا ہے۔ جیسے کہ انَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِين3 اور محمد رسول الله والذين معه الخ4 ظاہر ہے کہ یہاں مع بمعنی ”ساتھ“ ہے اور اگر تمہارے معنی لیا جائے تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالی عین صابر ہوں۔ اور صحابہ
ہوں تو کیا یہ صحیح ہے۔ اگر نہیں تو پھر آیت مذکورہ میں کس لئے اس کا معنی میں سے کیا جاتا ہے؟
علامہ جلال الدین سیوطی
اس آیت کے ماتحت حدیث نقل فرماتے ہیں:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله عنها ، قَالَتْ جَاءَ رَجَلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَا حَبُّ إِلَى مِنْ نَفْسِي وَإِنَّكَ لَا حَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي وَإِنِّي لَأَكُونَ فِي الْبَيْتِ فَاذْكُرُكَ لَمَا أَصْبَرُ حَتَّى آتِي فَانْظُرُوا إِذَا ذَكَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَكَ عَرِفْتُ إِنَّكَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِيِّينَ وَإِنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ خَشِيتُ أَنْ لَّا أَرَاكَ فَلَمَ يَزِدْ عَلَيْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَزَّلَ
حضرت عائشہ
سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ (ﷺ) آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور میری اولاد سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔ اور تحقیق میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کو یاد کرتا ہوں ۔ تو بے قرار ہو جاتا ہوں۔ جب تک کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جناب کی زیارت نہ کرلوں مجھے صبر نہیں آتا اور جب میں اپنی موت اور حضور ﷺکا وصال یاد کرتا ہوں تو جان جاتا ہوں کہ آپ جب جنت میں تشریف لے چلیں گے تو آپ نبیوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ اور میں جنت میں جاؤں گا تو ڈرتا ہوں کہ میں آپ کو نہ دیکھ سکوں گا۔ پس یہ آیت فوراً نازل ہوئی ۔ کہ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ عَلَيْهِمُ الخ5
یہ آیت مذکورہ کا شان نزول ہے۔ اب ذرا غور و تدبر کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے کہ آیت میں ” مع“ کا معنی ”ساتھ“ ہے۔ اس لئے کہ جو شخص حضور اقدس سلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ان کی یہ عرض تھی ۔ کہ حضور آپ تو جنت میں مقام انبیاء میں ہوں گے اور میں کہیں اور ہوں گا۔ مجھے اس امر کا ڈر ہے کہ میں شاید آپ کو وہاں دیکھ نہ سکوں گا۔ تو اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو اللہ اور اللہ کے رسول کے مطیع ہیں۔ وہ قیامت کو انہیں لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ جن پر اللہ تعالی نے انعام واکرام کئے ۔ گویا اللہ عز وجل اس شخص کو تسلی دے رہا ہے کہ جب تمہیں ہمارے محبوب سے اتنا پیار ہے کہ ان سے کہیں بھی جدا نہیں رہنا چاہتے تو ہم بھی تجھے قیامت کو اپنے محبوب کے ساتھ ہی رھیں گے۔ نہ یہ کہ تجھے نبی ہی بنا دیں گے ورنہ بتاؤ کہ کیا اللہ تعالی نے اس شخص کو نبی بنا دیا تھا۔ اگر تمہارا معنی صحیح ہو و اس شخص کو بالطریق الاولئے نبی بنا چاہئے تھا۔ مگر نہ وہ نبی بنا۔ نہ اس نے معاذ اللہ دعوی کیا۔ لہذا معلوم ہوا کہ تمہارے معنی غلط ہیں۔ صحیح یہی ہیں کہ وہ لوگ متضمین کے ساتھ ہوں گے۔ یہی مطلب حضور
کے فرمان کا ہے۔ کہ المرء مع من احب آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا۔ نہ یہ کہ آدمی خود اپنا بعینہ محبوب بن جاتا ہے۔ علامہ اسمعیل حقی فرماتے ہیں۔ هذَا تَرْغِيْبٌ لِلْمُؤْمِنِينَ فِي الطَّاعَةِ حَيْثُ وُعِدُوا مُرَافَقَةَ أَقْرَب عباد الی اللہیعنی یہ مومنین کے لئے ترغیب ہے۔ طاعت میں ۔ بایں حیثیت کہ اللہ کے مقرب لوگوں کی رفاقت سے وعدہ کئے گئے ہیں۔ 6
معلوم ہوا کہ مع بمعنی ”ساتھ“ کے ہی ایسے ہی حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں اس شخص کا عرض کرتے ہوئے یہ کہنا کہ إِنَّكَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النبیین اس امر پر صریح دال ہے کہ مع کا معنی ساتھ ہے۔ یعنی آپ جب جنت میں داخل ہوں گے تو آپ نبیوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ اور اگر تمہارے معنی لئے جائیں۔ تو یہ معنی ہوا کہ آپ جب جنت میں تشریف لے چلیں گے۔ تو آپ نبی بنائے جائیں گے تو لازم آیا کہ حضور ﷺ كُنتُ نَبِيًّا وَادَمُ بَيْنَ الطَّيِّنَ وَالْمَاءِفرمانے والے قیامت کے روز نبی بنیں گے اور اب نہیں ( معاذ اللہ ) یہ عقیدہ تمہیں کو مبارک ہو۔
کیا مرزا صاحب سے قبل کوئی بھی مطیع نہ گزرا۔ ذرا ہوش میں آؤ تمہیں خود بھی تو اطاعت اللہ اور اطاعت رسول کا دعوئی ہوگا۔ تو بتاؤ کہ تم نبی ہو یا کون ہو۔ ارے اگر تمہارے معنی ہی صیح ہوتے تو سب سے احق اور مقدم حضرت خلیفہ اول صدیق اکبر ہی تھے۔ وہ نبی ہوتے۔ ایسے ہی صحابہ کرام دنیا یہ سب کے سب، مطیع اللہ والرسولتھے ۔ بڑے بڑے غوث قطب گذرے۔ مگر مرزا صاحب کے سوا تم نے سب کو نعوذ باللہ مطیع الله والرسول نہ سمجھا۔ (افسوس صد افسوس)
خدار اذرا انصاف سے کہو کہ تم نے آیت پوری نقل کی ہے یا کچھ حصہ اس کا چھوڑ دیا ہے۔ افسوس کہ قصداً جان بوجھ کر مرزا صاحب کی خاطر یہ دھوکے بازیاں کی جاتی ہیں۔ ناظرین! اس آیت کے آگے اللہ عزوجل نے یوں فرمایا ہے کہ حسن اولیک رفیقا یعنی جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کی۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ جن پر اللہ تعالی نے انعام کئے۔ نبیوں میں سے اور صدیقین میں سے اور شہداء صالحین میں سے اور وہ لوگ (یعنی جن پر اللہ تعالی نے انعام کئے ) بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔ اب ناظرین خود فیصلہ کر لیں کہ رفیق ساتھی کو ہی کہتے ہیں یا نہیں۔
مرزائیو! كيا لا تقربو الصلوة والی حکایت تم لوگوں کو وراثت میں ملی ہے۔
{p |قولہ مع کے لفظ کے معنی من کے بھی آتے ہیں کہ ویسا ہی ہو جانا۔ 7 تو جواب یہ ہے کہ ہاں آتے ہیں تو آئیں ۔ تم یہ ثابت کرو کہ اس آیت میں بھی اس کے معنی من کے ہیں۔ مزا تو جب تھا کہ اگر بھی کا لفظ ہضم کر کے یوں کہتے کہ مع کے لفظ کے معنی من کے آتے ہیں مگر خیر تم لوگوں سے کچھ بعید بھی نہیں۔ کل کو یوں ہی لکھ دو گے۔ آپ کا شکریہ کہ آپ لفظ بھی تو لے آئے اور یہ تو بتا دیا کہ اس کے معنی ہر جگہ حسن کے نہیں آتے سمجھ لو کہ ”مع“ کے حقیقی معنی ”ساتھ“ کے ہیں اور حقیقت جب متعذر یا متروک و مجہور ہو تو مجاز کی طرف جانا پڑتا ہے ورنہ حقیقت مقدم ہے ۔ ”مع “ جہاں بھی بمعنی ”من“ آئے گا۔ وہ معنی مجازی ہو گا۔ مگر اس آیت میں جب کہ کوئی کسی قسم کا تعذر نہیں بلکہ ایک آیت میں مع کاحقیقی معنی ہی لینے کی تاکید کر رہی ہو تو پھر خواہ مخواہ معنی مجازی کی طرف جانا خلاف اصول اور علامت جہالت ہے۔}}