کیا آپ کے بعد نبی نہ ہونا اچھی بات ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر کیوں ایسے معنی نبی کریمﷺکے متعلق کئے جاتے ہیں حالانکہ یہ امت خیر امت ہے۔ لیکن بنی اسرائیل میں بے شمار نبی آتے رہے یہ اچھی خیر امت ہے کہ اس میں ایک نبی بھی آنہیں سکتا۔ 1
گویا آپ ختم نبوت کا فیصلہ مخلوق کے اچھا یا برا کہنے پر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلطی ہے۔ اجی اللہ تعالیٰ جب فرما چکا۔ کہ حضورﷺ خاتم النبین ہیں۔ خود آقائے مدینہ ل الام ارشاد فرما چکے کہ میں آخری نبی ہوں۔ پھر اللہ اور اللہ کے رسول کے فیصلہ کر دینے کے بعد آپ مخلوق کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ افسوس ، یا درکھو کہ تمہیں مخلوق سے پوچھنے کا ہرگز ہرگز حق حاصل نہیں ۔ اللہ تعالی کے افعال خالی از حکمت نہیں ہوتے وہ جو چاہے سو کرے۔ ہمیں دخل اندازی کا حق حاصل نہیں ۔ تمہیں اگر اس میں شک ہے تو اللہ سے پوچھا ہوتا کہ اے اللہ ! جب حضور
کے بعد نبی نہ ہونا اچھی بات نہیں تو پھر تم نے کیوں فرمایا: وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کے بعد نبی نہ ہونا ہی اچھی بات ہے۔ کیونکہ کسی شئے کا حسن و فتح شارع سے معلوم ہو سکتا ہے۔ اور شارع
ایسے مدعیان نبوت کو جو آپ کے بعد دعوی کریں۔ دجال فرماتے ہیں۔ پھر اچھی بات کیسے ہوئی۔
حضور
کے بعد نبی نہ ہونا باعث علوشمان محمدی اور باعث اعزاز امت محمد یہ علیٰ صاحبہا السلام ہے۔ مثلاً ایک مدرس اعلیٰ منفرد ابغیر کسی اعانت غیر کے اپنے ہائی سکول کے جمیع طلباء کو سبق دے دیتا ہے اور ایک دوسرے مڈل سکول کا مدرس اعلیٰ بغیر کسی دوسرے مدرس کی مدد کے تمام طلبا کو سبق نہیں دے سکتا ۔ بلکہ اس نے چھوٹے چھوٹے مدرس رکھ چھوڑے ہیں۔ تو پہلا مدرس جو بغیر کسی معین کے اپنے ہائی سکول کے تمام اسباق پورے کر دیتا ہے۔ اعلیٰ واعلم ہے۔ اس دوسرے مڈل سکول کے مدرس سے جو بغیر کسی معین کے سارے اسباق تک نہیں نبھا سکتا ۔ امام فخر الدین رازی
نے اس طریق سے حضور
کی فضیلت علی سائر الانبیاء ثابت کی ہے کہ اور انبیاء تو خاص خاص قوموں کی طرف مبعوث ہوتے رہے اور حضور
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ کا سہرا سر باندھ کر مبعوث ہوئے۔ لہذا وہ شخص جو سارے جہان کے لئے ہادی و معلم بن کر تشریف لایا ہو۔ افضل ہے۔ اس سے جو ایک خاص قوم کی طرف مبعوث ہو۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ایک شخص کے دو دشمن ہیں اور وہ ان سے مقابلہ کر کے جیت جاتا ہے۔ اور ایک شخص کا ایک سارا شہر دشمن ہے۔ اور وہ اس سارے شہر سے مقابلہ کرکے : جیت جاتا ہے۔ تو یہ اس کی بکمال درجہ بہادری اور فضیلت . ی اور فضیلت ہے۔ اس پہلے شخص سے جو ص سے جو دو دشمنوں سے مقابلہ کر کے جیت چکا ہے۔ حضور اقدسﷺکہ جب دنیا میں رونق افروز ہوتے ہیں تو جہان میں خصوصا ملک عرب میں جو جو کچھ ہوتا تھا۔ سب پر واضح ہے ایسے ظالم اور وحشی لوگوں میں آپ تشریف لاکر بحکم خداوند کریم سارے عالم کو مخاطب فرماتے ہیں ۔ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا اعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ3اب ظاہر ہے کہ ایک شخص ایک شہر میں جا کر اہل بلدۃ کے مخالف آواز اٹھا کر اور انہیں بغیر کسی خوف کے برا کہہ کر تنہا ان سے مقابلہ کرتا ہے اور پھر فتح یاب ہو کر اس شہر پر قبضہ کر کے حکومت کرنے لگ جاتا ہے۔ تو یہ اس کی کمال درجہ کی بہادری اور فضیلت ہے۔
اگر اس امت کا خیر امت ہونا اس امر کا مقتضی ہے کہ اس امت میں نبی آویں۔ تو پھر چاہئے تھا کہ بنی اسرائیل کی طرح اس امت میں بھی بے شمار بلکہ اس سے بھی زائد نبی آتے یہ اچھی خیر امت ہے کہ اس میں ایک ہی نبی آوے۔ خود تم مان چکے ہو۔ کہ بنی اسرائیل میں بے شمار نبی آتے رہے تو افسوس ہے کہ بنی اسرائیل میں تو بے شمار نبی مانو اور اس امت میں جے خیر امت بھی کہتے ہو ۔ ایک ہی نبی ثابت کرتے ہو۔ حضرت موسیٰ
کے زمانہ مبارکہ میں ہی حضرت یوشع
اور حضرت شعیب
بلکہ موسیٰ
کے ساتھ ساتھ ہی ان کے برادر حضرت ہارون
نبی موجود تھے۔ تو پھر اس امت میں جو خیر امت ہے۔ کیا وجہ کہ حضور اقدس ﷺکے زمانہ مبارکہ میں پھر آج تک اور کوئی نبی نہ ہوا۔