نبوت نعمت ہے يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذَجَعَلَ فِيكُمْ انبياء1 تو گویا نعوذ باللہ آپ رحمة للعالمین نہیں بلکہ لوگوں کے لئے منحوس ہیں کہ انعام کو بند کر دیا۔ 2
یہ اعتراض کفار عرب نے کیا تھا۔ علامہ اسمعیل حقی
روح البیان ،ص :188 ج :7 میں فرماتے ہیں : لمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ ( وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ) اسْتَغْرَبَ الْكُفَّا كَرَنَ بَابِ النَّبوة مسدودا! کہ جب اللہ تعالی نے آیت خاتم النبین نازل فرمائی تو کفار نے حضور اقدسﷺ کے وجود باوجود سے دروازہ نبوت کا بند ہو جانا ایک نادر اور عجیب امر سمجھا۔ یعنی انہوں نے بھی یہی کہنا شروع کیا۔ کہ حضور
سے پہلے تو انبیاء آتے رہے مگر کیا وجہ کہ حضور
نے آکر دروازہ نبوت بند کر دیا سچ ہے۔
کند همجنس با همجنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز!
یہ انعام اللہ عز وجل نے کبھی بغیر ضرورت کے کسی پر نہیں کیا اور جب کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ عزوجل سے وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ3 اور وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ4 کا انعام لے کر رونق افروز ہوئے ہیں تو پھر عالم کو کیا ضرورت کہ کسی اور نبی کا مقتضی ہو۔ حضور ﷺ کا اس امت پر یہ انعام کہ اسے لقب خیر امت سے ملقب فرمایا جانا اور پھر آقائے نامدار احمد مختار
کی خاطر اس امت سے کئی تکالیف کا اٹھا لینا۔ اور تھوڑے عمل پر زیادہ اجر کا ملنا۔ سب امتوں سے پہلے جنت میں جانا۔ اور اللہ تعالیٰ کا اسے نظر کرم و رحم سے دیکھنا ہی ایسے ایسے اس امت پر انعام ہیں کہ جن کا شکریہ ہم سے ہرگز ادا نہیں ہو سکتا۔ پھر تم یہ گستاخانہ لفظ منہ سے نکالتے ہو کہ آپ کو خاتم النبین ماننے سے آپ نعوذ باللہ منحوس ثابت ہوتے ہیں۔ ارے حضور
کا تشریف لانا ایک ایسا زبردست اور عظیم الشان انعام ہے کہ جس پر ہر ایک مسلمان کو فخر ہے اور انعام یہ نہیں کہ صرف سکے والوں کے لئے ہے یا صرف مدینہ والوں کے لئے نہیں بلکہ یہ انعام انہی دونوں جہان کے لئے ہے۔ جن وانبس ملائکہ حور و غلمان کے لئے ہے۔ اور سب ہی کو فخر ہے اس امر کا کہ اللہ عز و جل نے آقائے نامدار مدنی تاجدار احمد مختار ﷺ کو وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ5 کا سر سہرا باندھ کر اور تمام پیغمبروں کا سردار و خاتم النبیین بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا ہے کیا یہ انعام الہی کم ہے۔ جو ہم اب پھر انعام نبوت کے خواہاں ہوں اور ہمیں اپنے نبی کے سوا کسی اور نبی کی حاجت ہو اور جب تم نے حضور
کے سوا ایک اور نبی بنالیا تو گویا نعوذ باللہ آپ رحمۃ للعالمین نہیں ۔ اس لئے کہ تم اگر حضور
کو دو جہان کی رحمت اور رسول مانتے تو کسی دوسرے کا دامن ہرگز نہ پکڑتے۔
کیا رسالت یعنی نبوت تشریعیہ نعمت نہیں؟ اگر ہے تو حضور
کے قبل تو رسول آتے رہے۔ مگر حضور
کے بعد تم بھی نہیں مانتے۔فما هو جوابكم فهوجوابنا ..!