لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمَ لَكَانَ صِدِيقًا نَبِيًّا (ابن ماجه ) اگر ابراہیم زندہ ہوتے تو ضرور وہ سچے نبی ہوتے ۔1
افسوس! اگر تمہارا مقصود مخلوق خدا کو گمراہ کرنا نہ ہوتا اور اگر تمہارے دل میں خوف خدا جاگزین ہوتا۔ تو اس حدیث کو ہرگز ہرگز پیش نہ کرتے۔ کیونکہ یہ حدیث بڑی ضعیف ہے۔ بڑے بڑے محدث اسے باطل غیر صحیح نا قابل اعتبار بتارہے ہیں۔ سنو! تم نے اس حدیث کو بے سند نقل کیا ہے۔ ہم اس کی سند لکھ کر بتاتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور اس میں ایک راوی ایسا ہے۔ جس پر محدثین نے سخت جرح کی ہے۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد كنا داود بن شبيب الباهلي ثنا ابراهيم بن عثمان ثنا احكم بن عتيبه عن مقسم عن ابن عباس الخ2
یہ اس حدیث کی سند ہے۔ اس میں ابراہیم بن عثمان جو راوی ہے۔ وہ سخت مجروحاور متروک الحدیث ہے۔ کاش کہ تم ابن ماجہ کے حاشیہ پر ہی نظر ڈال لیتے کہ شیخ عبدالغنی دہلوی مدنی محششی ابن ماجہ فرماتے ہیں۔
وَقَدْ تَكَلَّمُ بَعْضُ النَّاسِ فِي صِحَةِ هَذَا الْحَدِيثِ كَمَا ذَكَرَهُ السَّيِّدِ
یعنی اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان آتا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اور مرقاۃ کے اسی صفحہ پر ہے۔ نیز مواہب لدنیہ کے ص ۲۰۰ ج ا پر ہے۔
وَقَالَ النووى في تهذيبه وَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنْ بَعْضٍ الْمُتَقَدِّمِينَ حَدِيثُ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ نَبِيًّا فَبَاطِلٌ یعنی علامہ نووی اپنی تہذیب میں فرماتے ہیں کہ بعض متقدمین سے جو حدیث روایت کی گئی ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ یہ باطل ہے۔
اور پھر مرقاۃ کے اسی صفحہ پر اور ابن ماجہ میں اسی حدیث کے حاشیہ پر اور مدارج النبوۃ کے ص ۲۶۷ ج ۲ پر اور مواہب لدنیہ کے ص ۲۰۰ پر ہے کہ قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ لَا أَدْرِي مَا هَذَا یعنی ابن عبدالبر نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہیہ روایت کیا ہے۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی
فرماتے ہیں:
و در روضه الاحباب این را این چنین نقل کرده و گفته که آنچه از سلف منقول است که ابراہیم پر پیغمبر
در حالت صفروفات یافت و اگر ہے زیست پیغمبر می شود بصحت نرسیده و اعتبار سے ندارد 3
یعنی روضۃ الاحباب میں ہے کہ وہ روایت جو سلف سے منقول ہے کہ حضور
کے صاحبزادے ابراہیم بچپن میں ہی رحلت فرما گئے۔ اور اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے ۔ صحت کو نہیں پہنچی اور قابل اعتبار نہیں۔
کیوں صاحب ! اگر آپ کو ذرا بھی خوف خدا ہوتا تو کیا آپ ایسی حدیث پیش کر کے مخلوق خدا کو گمراہ کرنے کی جرات کرتے ۔ جس حدیث پر کہ محدثین سو طرح کی جرحکر چکے ہوں۔ اور جس کے راوی کو ضعیف غیر قومی اور منکر الحدیث متروک الحدیث غیر ثقہ ساقط وغیرہ لکھ چکے ہوں۔ افسوس صد ہزار افسوس کہ مرزا صاحب کی محبت میں آپ لوگ حق کی بالکل پروانہیں کرتے ۔
وَقَالَ أَبُو حَاتِم ضَعِيفُ الْحَدِيثِ سَكَتُوا عَنْهُ وَتَرَكُوا حَدِيثَهُ اور ابو حاتم نے کہا کہ وہ ضعیف الحدیث ہے محد ثین نے اس سے سکوت کیا اور اس کی حدیث کو چھوڑ دیا۔
وَقَالَ الْجَوَ زَانِي سَاقِط اور جو زانی نے کہا کہ وہ ساقط ہے۔ وَقَالَ صَالِح جرزه ضعيف لا يكتب حديثه اور صالح جرزہ نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔ اس کی حدیث نہ لکھی جائے روى عن الحكم احادیث مناكير اس نے حکم اسے منکر حدیثیں روایت کی ہیں: وقال ابو علی النیسا پوری ليس بالقوی اور ابو علی نیشا پوری نے کہا کہ وہ قوی نہیں۔
وَقَالَ مُعَاذُ ابْنُ مُعَاذَ الْعَبْرِي كَتَبْتُ إِلَى شَعْبَةَ وَهُوَ بِبَغْدَادَ أَسَالُهُ عَنْ أَبِي شِيْبَةَ الْقَاضِي أَروى عَنْهُ فَكَتَبَ إِلَى لَا تَرُوعَنْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَنْمُومٌ
اور معاذ بن معاذ نے کہا کہ میں بغداد میں شعبہ کی طرف لکھ کر یہ پوچھا کہ میں ابو شیبه ابراهیم بن عثمان سے روایت کروں تو انہوں نے مجھے لکھا کہ اس سے روایت مت کرو کہ وہ ایک برا شخص ہے۔
وَقَالَ ابْنُ سَعْدِ كَانَ ضَعِيفًا فِي الْحَدِيثِ اور ابن سعد اسے حدیث میں ضعیف کہتے ہیں ۔ وَقَالَ الدَّارُ تُطنِی ضَعِعیف اور دار قطنی نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔4
علامہ علی قاری
فرماتے ہیں:
وَفِي سَنَدِهِ أَبُو شَيْبَهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ عُثْمَانَ الْوَاسِطِي وَهُوَ ضَعِيفٌ5
حدیث زیر بحث بھی اس نے حکم سے ہی روایت کی ہے
جَمَالُ الدِّينُ الْمُحَدِّثُ یعنی تحقیق بعض محدثین نے اس حدیث کی صحت میں کلام کی ہے۔ جیسے کہ ذکر کیا اس کا سید جمال الدین محدث نے ۔
اور پھر فرمایا:
رَوَى ابْنُ مَاجَةَ بِسَنَدٍ فِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ عُثْمَان الْعَبَسِي قَاضِي وَاسِطٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ
یعنی - اس حدیث کو ابن ماجہ نے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ جس میں ابراہیم بن عثمان آتا ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی
فرماتے ہیں:
و در سند ایں حدیث ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان واسطی است دور ضعیف است6
یعنی اس حدیث کی سند میں ابراہیم بن عثمان آتا ہے اور وہ ضعیف ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی
تہذیب التہذیب میں ابراہیم بن عثمان کے متعلق فرماتے ہیں:
قَالَ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَأَبُو دَاوُدَ ضَعِيفٌ بِثِقَةٍ
احمد اور یحییٰ اور ابو داؤد نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔
وَقَالَ يَحْيَى أَيْضًا لَيْسَ بِثِقَةٍ
کی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ثقہ نہیں ۔
وَقَالَ الْبُخَارِي سَكَتُوا عَنْهُ
اور بخاری نے کہا ہے کہ محد ثین نے اس سے سکوت کہا ہے۔
وَقَالَ التَّرْمَذِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ
اور ترندی نے کہا کہ وہ منکر الحدیث ہے۔
وَقَالَ النِّسَائِي وَالدُّوَلَابِي مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ
اور نسائی اور دولابی نے اسے متروک الحدیث کہا ہے۔
افسوس کہ اپنے مطلب کی کہی۔ اس حدیث سے پہلے ساتھ ہی جو حدیث ابن ماجہ میں آتی ہے۔ ذرا اسے بھی لکھ دیا ہوتا تاکہ اس حدیث کا مطلب صاف ہو جاتا۔ مگر لکھتے کیوں ۔ جب کہ تمہارا مقصود ہی لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ سنو ۔ اس حدیث کے ساتھ ہی۔ یہ حدیث آتی ہے۔ حضرت اسمعیل بن خالد نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی
سے فرمایا:
رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَکیا آپ نے حضور
کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا انہوں نے فرمایا کہ مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ وَلَكِنْ لَا نَبِي بَعْدَهُ7
کہ وہ پچپن میں رحلت فرما گئے ۔ اگر یہ مقدر ہوتا کہ حضور
کے بعد بھی نبی ہو۔ تو البتہ وہ زندہ رہتے لیکن حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں، یہ حدیث بخاری شریف میں بھی ہے (دیکھو ۲۱۳ پ ۲۵ باب من تسمی با سماء الانبیاء) اور یہ حدیث صحیح ہے۔ چنانچہ شیخ عبد الغنی محدث دہلوی محشی ابن ماجہ فرماتے ہیں:
الَّذِي أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي بَابِ تُسْمَى بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ صَحِيحٌ لَاشَكٍّ فِي صِحَتِهِ وَقَدْ أَخْرَجَ الْمُؤَلِّفُ أَيْضًا بِهَذَا الطَّرِيقِ مِنْ حَدِيثُ مُحَمَّدِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ نَمُيَرًا الخ8
ترجمہ: یعنی جس حدیث کا بخاری نے باب میں من تسمی با سماء الانبیاء میں اخراج کیا ہے وہ صحیح ہے اس کی صحت میں کوئی شک نہیں اور اس حدیث کا محمد بن عبد اللہ نمیر سے اسی طریق سے ابن ماجہ نے بھی اخراج کیا ہے۔
علامہ قسطلائی نے مواہب لدنیہ ص ۲۰۰ ج ا پر ایک حدیث نقل کی ہے کہ:
قَدْرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ انْسِ ابْنِ مَالِكَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ بَقِيَ يعنى إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ نَبِيًّا وَلَكِن لَّمْ يَبْقَ لأَنَّ نَبِيْكُمْ اخر الانبیاء یعنی انس بن مالک فرماتے ہیں کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ لیکن وہ زندہ نہ رہے۔ اس لئے کہ تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیں۔ حضرت ابن ابی اوفی
کی حدیث میں آتا ہے۔
لَوْ كَانَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَمَا مَاتَ ابْنُما گر حضور
کے بعد نبی ہوتا۔ تو آپ کے صاحبزادے رحلت نہ فرماتے ۔ 9
اب تمہاری حدیث لو عاش ابراهيم لكان نبیا کا مطلب صاف ہے کہ اگر حضور
کے بعد نبی آنا ممکن ہوتا تو ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہوتے۔ مگر حضور
چونکہ آخر الانبیا اور خاتم النبیین ہیں۔ لہذا ابراہیم زندہ نہ رہے اور ان کا زندہ رہنا بھی محال تھا۔
حضرت ابن عباس
کا فرمان گزر چکا ہے کہ وہ فرماتے ہیں:
يُرِيدُ لَوْ لَمْ اخْتِمُ بِهِ النَّبِيِّينَ لَجَعَلْتُ لَهُ ابْنَا يَكُونُ بَعْدَهُ نَبِيًّا ( خازن) یعنی اللہ تعالیٰ آیت وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن میں یہ ارادہ فرماتا ہے کہ اگر میں حضور
کے وجود باوجود سے نبیوں کو ختم نہ کرتا۔ تو آپ کو بیٹا دیتا۔ جوآپ کے بعد نبی ہوتا ۔
اور فرمایا:
إِنَّ اللهَ لَمَّا حَكَمَ أَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ لَمْ يُعْطِهِ وَلَدًا ذِكْرًا يُصِيرُ رَجُلًا (خازن ) یعنی جب اللہ نے فرمایا کہ حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں۔ تو آپ کو ایسا بیٹا ہی نہیں دیا جو مبلغ رجال تک پہنچ جاتا۔